حضرت مولا علی کا کردار و عمل موجودہ حکمرانوں کے لیے قابل تقلید نمونہ ککرالہ

جامعة المصطفٰی محسن العلوم مسجد حاجی اصغر علی شرافتی میں خلیفہ راشد تاجدارِ ولایت حضرت مولا علی کرم اللّٰه وجهه الكريم کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کیاگیا ، نماز عصر سے پہلے قرآن خوانی ہوئی بعد نماز عصر نعت و مناقب اور درس کا سلسلہ شروع ہوا جس میں مسجد کے خطیب و امام مفتی فھیم ثقلینی نے حاضرین کو بتایا کہ حضرت علی مرتضٰی کی ذات کا منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے جو انہیں دنیا کے حکمرانوں سے جدا اور منفرد کرتا ہے۔ آپ نے عدل و انصاف کا معاشروں، ریاستوں، تہذیبوں، ملکوں، حکومتوں اور انسانوں کے لیے انتہائی اہم اور لازم ہونا ثابت کیا مولا علی کا پیغمبر اسلام سے براہ راست رشتے، تعلق، تربیت، سرپرستی اور بچپن سے لیکر زندگی کے تمام مراحل تک جلوت و خلوت میں قرابت کا سبب ہے کہ آپ کی زندگی تعلیمات قرآنی اور سیرت رسول اکرمﷺ کا عملی نمونہ اور روشن تفسیر کے طور پر موجود ہے۔ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ حضرت علی کا دور حکومت بہت سارے بحرانوں کے باوجود کامیاب دور حکومت رہا۔
اس کے بعد حضرت مولا علی کی بارگاہ میں نذر پیش کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کا سلسلہ شروع ہوا جس میں
دعائے حزب البحر اور دعائے مغنی کا بھی ورد کیاگیا اور حاضرین و معاونین کے ساتھ ساتھ بالخصوص مدارس اسلامیہ تحفظ و بقا کے لیے پرسوز انداز میں دعائیں کی گئیں۔
اس کے بعد لنگر عام ہوا تمام حاضرین نے افطار کیا ، اور باجماعت نماز مغرب ادا کی گئی۔
اس موقع پر حافظ معاذ عامر ثقلینی ، حافظ عمر قادری گھبیائی ، حفاظ فہیم بہٹہ ، حافظ ارسلان ثقلینی ککرالہ اور ابوھریرہ ثقلینی نے شرکت کی ۔ افطار و فاتحہ اور لنگر کا پورا اہتمام جناب حسرت علی خاں صاحب کی طرف سے کیاگیا ۔ جس میں نوجوانان محلہ نے انتظام و انصرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *