فراق کی شاعری میں ہندوستان کی عظیم تہذیبی روح جلوہ گرتھی:طارق جیلانی اترپردیش اردواکادمی کے زیراہتمام’بیادفراق گورکھپوری‘مشاعرہ منعقد

فراق کی شاعری میں ہندوستان کی عظیم تہذیبی روح جلوہ گرتھی:طارق جیلانی
اترپردیش اردواکادمی کے زیراہتمام’بیادفراق گورکھپوری‘مشاعرہ منعقد
بارہ بنکی،14فروری،فراق گورکھپوری اپنے ہم عصرشاعروں میں سب سے قدآورشاعر تھے،فراق کی شاعری میں ہندوستان کی عظیم تہذیبی روح جلوہ گرتھی،ان کی شاعری میںوہ تمدن تھا جو سب کو اپنے اندر سمیٹنے کی صلاحےت رکھتا تھا اور اسی لئے انہیں عظیم دانشور کے طورپر دیکھا،سمجھا اور پڑھاگےا۔انہوں نے ہمیشہ اردو زبان کے لئے بہت کچھ کہا،لکھا پڑھا ،مگر یہ بھی سچائی ہے کہ ان کے اشعار ہرایک کے دل میں بڑی خوبصورت بزمِ خیال سجاتے ہیں جہاں صرف پیار اور محبت کے چراغ جلتے ہیں۔مذکورہ خیالات کا اظہارصدرمشاعرہ طارق جیلانی(صدرکاروان انسانےت)نے لکھپیڑاباغ میرج لان میں منعقدکُل ہند مشاعرے میں کیا۔ مشاعرے کاانعقاد اترپردیش اردو اکادمی کے زیراہتمام اور سدریٰ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئرسوسائٹی کی کنوینرشپ میں کیاگےا۔
مہمان خصوصی ڈاکٹراحتشام احمد خاں(ہیڈ امریکن انسٹی ٹےوٹ آف انڈین اسٹڈیز) نے کہاکہ فراق صدی کے آواز تھے-ایک ایسی آواز-جس میں اس صدی کی تاریخ کا درد وکرب،جدوجہد وکشمکش،تمنا و تڑپ، عیش ونشاط،محرومی اور گھٹن،رواےت وتجربہ سب شامل تھے۔فراق کی شعری تخلیقات میں صدی کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔بیاد فراق گورکھپوری مشاعرہ نے اردو کے لیے ہماری محبتوں اور دلچسپیوں میںاضافہ کےا ہے ۔ ڈاکٹراحتشام احمدخان نے اترپردےش اردو اکادمی کا بطور خاص شکرےہ ادا کےا۔
ضیاءاللہ صدیقی جنرل سیکریٹری سدریٰ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئرسوسائٹی نے استقبالیہ کلمات اداکرتے ہوئے کہا کہ فراق انگریزی ادب کے باصلاحیت استاد ہونے کے باوجود انہوں نے اردو ادب میں بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔ان کو اردو زبان سے بے حد پیار تھا انہوں نے اردو زبان کو نہ صرف اپنایا بلکہ والہانہ عقیدت کا ثبوت دیا۔وہ عوامی بےداری، خودداری، خدمتِ خلق اور جمہوریت کے سیاسی نظام حکومت کے بھی بہت بڑے حامی تھے۔
مہمان اعزازی حسن کاظمی ،سیف بابر،فیض خمار بارہ بنکوی ،شعیب انور،جاوید ثمراوررام پرکاش بیخودنے بھی فراق کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کو اپنے ہم عصروں میں سب سے قدآورشاعر مانا۔مشاعرہ کی شاندارنظامت عاصم کاکوروی نے اپنے مخصوص اوروالہانہ انداز میں کی۔ناظم مشاعرہ نے اترپردیش اردو اکادمی کی سرگرمےوں کا تعارف پےش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان وادب کے فروغ کے لےے اکادمی کی مختلف اسکےمےں ہےں ۔اردو والوں کو ان اسکےموں سے فائدہ اٹھانا چاہےے ۔اس موقع پر اکادمی کے رسالوں اور مطبوعات کا بھی انھوں نے ذکر کےا اور کہا کہ ادبی تہذیب اور تربےت مےں ےہ کتابیں بہت اہم ہےں ۔مشاعرے میں پیش کئے جانے والا شعراءکامنتخب کلام نذر قارئین ہے۔
وہ روٹھے گا توغزلوں کاہنر نزدیک آئے گا
جویہ معلوم ہوتا عمربھراس کوخفا رکھتے
حسن کاظمی
عجیب دور ہے کرلو جو اب کسی کو سلام
سلام کیوں کیایہ بھی بتانا پڑتا ہے
سیف بابر
ہمیں توپھول نہیں روشنی کی حاجت ہے
اب اس زمیں پر پودا نہیں چراغ لگا
جاوید ثمر
میرے مسلک کے منافی ہیں عقیدت کے خلاف
میں نہ سن پاﺅں ایک لفظ محبت کے خلاف
شعیب انور
یہ دنیا ایک دوزخ ہے جہاں پر
کہیں سے لوگ مرکرآرہے ہیں
شاشوت سنگھ درپن
مرے خاموش اشکوں کوسنوخاموش رہنے دو
قیامت آہی جائے گی اگریہ بول بیٹھیں گے
روبینہ ایاز
میراتو دھرم مذہب ہے محبت
میں رہنے والا ہوں ہندوستاں کا
فیض خمار بارہ بنکوی
ہم کو اڑنے کاطریقہ نہ سکھاﺅ ہم لوگ
پیڑ سے آئے ہیں پنجڑے سے نہیں آئے
سلیم صدیقی
ہم لوگ زمانے میںبھٹکتے ہی رہیں گے
جب تک کہ کوئی قافلہ ¿ سالار نہ ہو
احمدرضا
ملتا ہے مگرملتاہے انداز بدل کر
آوازمجھے دیتا ہے آواز بدل کر
رام پرکاش بیخود
بڑی صحرا نوردی کی ضرورت ہوتی ہے صاحب
توپھرجاکرکہیں اک شعر کی تکمیل ہوتی ہے
عاصم کاکوروی
مجھے یہ پتہ ہے میں تنہا نہیں ہوں
سبھی تو ہیں میرے یہاں سے وہاں تک
زاہد بارہ بنکوی
اس کے علاوہ ریحان رونقی ،صابرنذر،کرن بھاردجواج،التمش لکھنوی،صفی ابن صفی،اعجازحسین،ناظرحسین،اورنثاربستوی نے بھی اپنے بہترین اشعار پیش کئے۔اس موقع پرلکھنو ¿ یونیورسٹی کے ڈاکٹراعجاز حسین،ڈاکٹرناظر حسین اورصفی ابن صفی(سیدانورصفی) کواعزازی سندبرائے ادبی خدمات اورتوصیف نامہ پیش کیاگےااوران حضرات کی خدمات کوسراہاگےا۔مہمانان اورشعراءحضرات کااستقبال مومنٹو،گلدستہ اورشال پیش کرکے محمد عبیداشہد،فیض خمار اورضیاءاللہ صدیقی کے بدست کیاگےا۔
سدریٰ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے جنرل سکریٹری ضیاءاللہ صدیقی نے اترپردیش محکمہ لسانیات کے ایڈیشنل چیف سکریٹری جتیندر کمار، اترپردیش اردو اکادمی کے سکریٹری ایس ایم عادل حسن، سابق سکریٹری اترپردیش اردو اکادمی ایس رضوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان حضرات نے ہماری سوسائٹی کو مشاعرہ کا کنوینر مقرر کرکے ہمارے کاندھوں پر ایک اہم ذمہ داری ڈالی تھی ، یہ ایک بڑی اہم اورخاص ذمہ داری تھی ۔فیض خمار بارہ بنکوی ، شعیب انور ،محمدعبیداشہد(اشو) جاویدثمراوربارہ بنکی کے ادب شناس عوام کی وجہ سے ہم اس اہم ذمہ داری کوبحسن خوبی انجام دے سکے۔جس کے لیے ہم اپنے ان تمام کرم فرماﺅں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اس موقع پر انھوں نے اکادمی کے سکریٹری ایس ایم عادل حسن کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔بارہ بنکی کے علمی و ادبی حلقوں سے مخصوص حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور مشاعرہ کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔جن میں بطورخاص حشمت علی گڈو، محمدآفاق،چودھری عبید،ڈاکٹرجاوید احمد،ضیا میاں،عرفان قریشی،محمدفیصل کارپورےٹر،شواشرماکارپوریٹر،ساجد خان، محمدشہاب،ریاضل ایڈوکیٹ، ضمیر الحسن،محمد رفیع،عمران خان،محمدارشد وغیرہ ہیں۔آخرمیں ضیاءاللہ صدیقی نے مہمانان ،شعرااوراترپردیش اردو کادمی کا ایک بار پھرشکریہ اداکیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *